فضائل سورہ سجدہ

 

 فضائل سورہ سجدہ

سورہ سجدہ وہ سورت ہے جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سے پڑھا اس لیے اس کی فضیلت اور برکت بےپناہ ہے

 

حدیث نمبر 1

 حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سورہ سجدہ اور سورہ ملک پڑھے بغیر سویا نہیں کرتے تھے (ترمذی)

حدیث نمبر 2

 حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جو اس صورت کو مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھے گا اس نے لیلۃالقدر کا قیام کیا۔ قیامت کے دن یہ سورہ اس طرح آئے گی کہ اس کے دو بازو ہوں گے اور اپنے پڑھنے والوں پر پردہ کرے گی اور فرشتوں سے کہے گی کہ  اس شخص پر کوئی راستہ نہیں، اس پر کوئی راستہ نہیں یعنی اس کو مت پکڑو اور اسے چھوڑ دو۔ الف لام میم سجدہ اور تبارک الذی دیگر سورتوں پر ساٹھ نیکیاں زائد رکھتی ہیں اور ابن عمرؓ نے ساٹھ درجے فرمایا۔

حدیث نمبر 3

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن نماز فجر میں سورۃ الف لام میم تنزیل سجدہ پڑھا کرتے تھے (ابن کثیر)

یہ سورت غلبہ اور عزت پیدا کرنے میں بہت مفید ہے اگر کوئی شخص ملازمت کرتا ہوں اور اس کے افسران بالا اس سے خفگی اور سختی سے پیش آتے ہو تو اسے چاہیے کہ سات روز تک بعد نماز فجر اس سورت کو تین مرتبہ روزانہ پڑھے انشاءاللہ افسران بالا بےحد مہربان ہو جائیں گے

یہ سورت شفایابی کے بھی اثرات رکھتی ہے اس لیے اس سورت کو تین مرتبہ پڑھ کر مریض کو دم کرکے پانی پلانا مریض کی صحت یابی کی دلیل ہے اور اللہ اپنی رحمت سے مریض کے صحت یاب ہونے کا ذریعہ بنا دے گا۔

کسی شخص کو فریق مخالف نے مکان زمین یا جائیداد کے مسئلہ میں بہت پریشان کر رکھا ہو تو اسے چاہیے کہ اکیس روز تک اس سورت کو روزانہ بعد نمازِ عشاء 11 مرتبہ پڑھے انشاءاللہ مخالفوں سے ہر طرح کی پریشانی سے نجات ملے گی گی۔

تبصرے